1 مارچ 2017 - 16:22
مساجد اور امام بارگاہوں پر دہشت گردی کے حملے کے خدشات کے باوجود سیکورٹی انتظامات کا نہ ہونا سوالیہ نشان ہے:علامہ ناظر عباس تقوی

شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کہ صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کاکہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ کی طرف سے سیکورٹی پلان کے اعلان کے باوجود شہر کے حساس مقامات پر کوئی بھی سیکورٹی کے انتظامات دیکھنے میں نظر نہیں آرہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کراچی؛ شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کہ صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کاکہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ کی طرف سے سیکورٹی پلان کے اعلان کے باوجود شہر کے حساس مقامات پر کوئی بھی سیکورٹی کے انتظامات دیکھنے میں نظر نہیں آرہے مساجد اور امام بارگاہوں پر دہشت گردی کے حملے کے خدشات کے باوجود سیکورٹی انتظامات کا نہ ہونا سوالیہ نشان ہے جبکہ اس وقت تمام مساجد اور امام بارگاہوں میں شہادت ایام فاطمہ کی مجلس اور جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے ایسی صورت میں اگر کوئی نا خشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا حتی کے سہون جیسے سا نحہ کے باوجود لال شہباز قلندر کے مزار سے رینجرز کی سیکیورٹی کو ہٹا دینا اور خواتیں کی سیکورٹی کے لئے غیر تجربے کار عورتوں کو بھرتی کر نا عوام کے جان ومال سے کھیلنے کے مترادف ہے ردالفساد آپریشن کے اعلان کے بعد ڈیڑھ اسمائیل خان میں ہونے والی شیعہ ٹارگٹ کلنگ آپریشن ردالفساد کرنے والوں کے لئے اب مزید چیلنج بن گیا ہے ردالفساد آپریشن بلا تفر یق دہشت گردوں کے خلاف کیا جائے اور اس آپر یشن کو سیا سی مداخلت سے دور رکھا جائے تا کہ یہ آپر یشن اپنی صیح سمت پرجاری رہے سکے گزشتہ دنوں سا نحہ سہون کے سہولت کاروں کی گرفتاری اور سیاسی وابستگیوں نے عوام کو حیران کر دیا ہے لہذاں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انصاف کے تقا ضوں کو پورا کرتے ہوئے اصل حقائق کو عوام کے سامنے لائے اور جو عناصر بھی سا نحہ سہون میں ملوث ہیں اُن کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور مقتولین کے لواحیقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲